Posts

Showing posts with the label Article

Unaiza Zahid- Dept of Bio Chemistry article

Foto is need. 600 plus words are required U should write ur name in Urdu in the piece  Department of Bio Chemistry, University of Sindh  Unaiza Zahid - article جامشورو سندھ یونیورسٹی میں واقعہ شعبہ بائیوکیمسٹری سن ۱۹۹۹ میں پروفیسر ڈاکٹر صالح میمن کی سربراہی میں وجود میں آیا۔اس شعبہ کو قائم کرنے کا مقصد طلباء کو میڈیکل لبارٹری کے حوالے سے تعلیم فراہم کرنا، نت نئے تجربات کر کے بیماریوں کے اینٹی ڈوٹ بنانا اور مختلف ٹیسٹ کے ذریعہ بیماریوں کا پتا لگانا ہے۔اس شعبہ میں بائیوکیمسٹری کے ساتھ ساتھ نیوٹریشن اینڈ فوڈ ٹیکنولوجی کا شعبہ بھی شامل ہے جس میں صحت اور غذا سے متعلق اعلی تعلیم دی جاتی ہے۔  اس شعبہ کا شمار جامعہ سندھ کے بہترین ٹاپ ٹین شعبوں میں ہوتا ہے جس کا تاج اس شعبہ کے ڈائریکٹرزکے سر سجایا جاتا ہے جن میں پروفیسر ڈاکٹر صالح میمن،پروفیسر ڈاکٹر ﷲ نواز میمن ، پروفیسر ڈاکٹرﷲ بخش گھانگرو اور پروفیسر ڈاکٹر نسیم اسلم چنا شامل ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت سے آج شعبہ کو اس مقام تک پہنچایا۔ شعبہ میں اعلی تعلیم اساتذہ کو طائنات کیا گیا ہے جن میں پروفیسر ڈاکٹر افشین شاہ، ڈاکٹر ...

Rabia Wahid- Dept of Criminology article- Urdu- BS#3

Spelling mistakes names of teachers are half names,  Foto of the department Dept of Criminology University of Sindh    article-  نام  :  ربیعہ واحد رول نمبر:۲کے۱۶۔ایم سی۔ - -۱۴۰ بی ایس ۔پا رٹ ۳  کرمنالوجی   1915 ۱۹۱۵ میں قائم ہونے والی جامعہ سندھ جو کہ جامشورو کے ایک طویل حصہ پر قائم ہے۔ اپنی مدت کے حساب سے یہ کافی پران یو  نیورسٹی ہے۔ جس نے کئی طلبا ء و طلبات کو فیظ یاب کیا اور آج بھی یہ کام جاری اور ساری ہے۔ جامعہ سندھ کے ہر شعبہ سے کوئی نہ کوئی ایسا چمکتا سورج نکلاہے جس نے اپنی ایک پہچان بنائی اور اپنی انہی کرنوں سے دوسروں کو روشناز کیا۔ جامعہ کا ہر شعبہ تعلیم کے لحاظ سے اپنی مثال اور جگہ رکھتا ہے۔شعبہ کرمنالوجی فیکلٹی آو ف سوشل سائنس کے چو دہ شعباجات میں سے ایک جانامانا جاتا شعبہ ہے جس سے کئی ایسے ستارے نکلے جنہوں نے دوسروں کو فیظ پہنچایا جن میں سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بھی شامل ہیں جو جامعہ سندھ کے شعبہ کرمنالوجی کے طلبہ رہے چکے ہیں۔ شعبہ کرمنالوجی جامعہ کی فیکلٹی آوف آرٹس میں واقعہ ہے ۔ اس شعبہ کی بنیاد (۲۰۱۲) میں وائس ...

Faculty of Social Sciences Sindh University Bibi Rabia

Faculty of Social Sciences Sindh University  Bibi Rabia   600 plus word required بی بی رابیعہ رول نمبر ۲۴ کلاس بی ایس تھری جامعہ سندھ کی سوشل سائنس فیکلٹی : جامعہ سندھ پاکستان کی قدیم یونیورسٹی ہے جو کہ صوبہ سندھ کے شہر جامشورو میں واقع ہے اس میں موجود آٹھ فیکلٹیز ہیں جس میں فیکلٹی آف آرٹس،فیکلٹی آف کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن ، فیکلٹی آف ایجوکیشن، فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز ، فیکلٹی آف لا،فیکلٹی آف نیچرل سائنس،فیکلٹی آف فارمیسی،فیکلٹی آف سوشل سائنس شامل ہیں۔ سوشل سائنس فیکلٹی جامعہ سندھ کی دوسری بڑی فیکلٹی ہے جس کی تعمیر ۱۹۸۹میں ہوئی ،جس کے پہلے ڈین پروفیسر غلام حسین خاصخیلی تھے، جامعہ سندھ کی سوشل سائنس فیکلٹی میں تقریبا سولہ ڈپارٹمینٹ ہیں جن میں عابدہ تحیرانی سندھ ڈویلپمینٹ اسٹڈی سینٹر ، انسٹیٹیوٹ آف جینڈر اسٹڈیز ،شعبہ اکنامکس، شعبہ جنرل ہسٹری، شعبہ بین الاقوامی تعلقات،شعبہ لائبریری سائنس، شعبہ زرائع ابلاغ عامہ،شعبہ سیاست،شعبہ نفسیات، شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن ، شعبہ سوشیالوجی،شعبہ سوشل ورک،شعبہ کرمنالوجی،علاقائی مطالعہ(ایم فل۔پی ،ایچ ،ڈی)، پاکستان اسٹڈ...

Department of Anthropology & Archaeology Marvi Shoukat

600 plus words are required, its too short Foto of the department  Article- Urdu- BS 3  Marvi Shoukat  Department of Anthropology & Archaeology نام: ماروی شوکت   بی ایس پارٹ ۳ رول نمبر:2k16/mc/47 آرٹیکل:شعبہ اینتھراپالوجی اینڈ آرکیالوجی جامعہ سندھ کا شعبہ اینتھراپالوجی اینڈ آرکیالوجی یکم جنوری 2008قائم ہوا۔ اس کے موسس محمد مختیار احمد قاضی ہیں اور شعبہ کے پہلے چیئرپرسن بھی مختیا راحمد قاضی تھے ۔موجودہ چیئرپرسن محمد حنیف لغاری ہیں۔اس شعبہ کی فیکلٹی ۱۰ دس اساتذہ پر مشتمل ہے جن میں پانچ۵لیکچرر،تین۳ اسٹنٹ پروفیسر ،ایک۱پروفیسر اور ایک ۱ میوزیم اسٹنٹ ہے ان میں سے چار اساتذہ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے مختلف ملکوں میں گئے ہوئے ہیں۔اس شعبہ میں تقریبا 160طلباء ہیں۔یہ شعبہ دس کمروں والے شعبہ کے نام سے مشہور ہے یہ شعبہ سینٹرل لائبریری کے پیچھے اور کامرس سے آگے قائم ہے۔ اس کا معیار پاکستان میں کچھ گورنمنٹ اور کچھ پرائیوٹ سیکٹرز میں ہے۔کلچر ڈپارٹمنٹ اور NGOمیں ان کی ضرورت ہوتی ہے اس شعبہ میں مختلف بیس۲۰ سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں جس سے یہ مختلف سیکٹرز میں اپنی خ...

Ahtisham Shoukat- Dept Information and Communication Technology article- Urdu- BS#3

Too short. 600 plus words required Foto of department  Dept Information & Communication Technology  University of Sindh  article-  محمد احتشام شوکت      MA PREVIOUS -  رول نمبر :2k18/mmc/21     آرٹیکل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی  جا معہ سندھ جامشورو کا انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (IICT)1979کو قائم ہوا۔جس کا پرانا نام فزکس اینڈ ٹیکنالوجی تھا لیکن2008میں نئے سرے سے تعمیر کرکے اسسکا نام IICTٰٰٰٰٰٰ رکھا گیا۔اس میں انٹر گریجویٹ اور گریجویٹ کی سطع پر اعلی تعلیم دی جاتی ہے جس میں مختلف چار شعبہ ہیں ۔الیکٹرونکس،ٹیلی کمیونیکیشن،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوفٹ ایئر انجیئرنگ یہ چاروں شعبہ نظم وضبط کے ذریعے مشترکہ طور پر چلتے ہیں ۔اس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر امداد علی اسماعیلی ہیں۔اس کی فیکلٹی 49مشتمل ہے ۔جن میں20PHDََِِِ ،20 M PHILاور ۹ انڈر گریجویٹ ہیں ۔اس میں کل طلباء کی تعداد 2700ہے ۔اساتذہ اور طلبہ وطالبات کا تحقیقی جائزہ اقوامی اور بین الاقوامی اعزاز پر شائع کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔...

Department of Physiology by Muhammad Usama-

Department of Physiology University of Sindh  by Muhammad Usama  محمد اسامہ بی ایس ۱۱۱ شعبہ فزیالوجی (جامعہ سندھ جامشورو) ملک پاکستان کی جامعات میں جامعہ سندھ (جامشورو) کو دوسرا قدیم جامعہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔جس میں پچاس سے زائد شعبہ جات ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں طالب علم مختلف شعبہ جات کے علوم سے مستفیض ہو رہے ہیں ۔جن میں ایک بہترین اور اعلٰی شعبہ جسمانی و دیگر بیماریوں کی تحقیقات کے حوالے سے شعبہ فزیا لوجی تسلیم کیا جاتا ہے۔ شعبہ فزیالوجی کی بنیاد ۱۹۷۴میں رکھی گئی ۔جس کے سب سے پہلے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر انصاری تھے۔اس ادارے کو متعارف کروانے کا مقصد طلبہ کو میڈیکل سائنسز اور کلینیکل پیشے سے متعلق اعلٰی تعلیم فراہم کرنا تھا۔وہ طلبہ و طالبات جو پہلی مرتبہ اس شعبے سے فارغ تحصیل ہوئے انہوں نے میڈیکل ریسرچز میں نمایاں کردار ادا کیا۔شعبہ فزیالوجی میں صرف میڈیکل ریسرچز پر ہی کام نہیں ہوتا بلکہ ساتھ ساتھ طلبہ کو ذہنی طور پر بھی مختلف تجاویز دی جاتی ہیں کہ اس طرح وہ اپنی زندگی کو مختلف بیماریوں سے بچتے ہوئے بھرپور طریقے سے گزار سکتے ہیں۔جس کے لیے شعبے کی فیکلٹی...

Department of Geography by Muhammad Noman

foto of department 600 plus words are required  Department of Geography, University of Sindh  A rticle  by Muhammad Noman   Urdu جامعہ سندھ جامشورو  شعبہ جغرافیہ: پاکستان کی دوسری قدیم جامعہ'' جامعہ سندھ ' ' کو کہا جاتا ہے جس میں کم و بیش 65 شعبہ جات میں مختلف علوم سے طلبا ء کو روشناس کیا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک شعبہ ''شعبہ جغرافیہ'' بھی زمینی معلومات کے حوالے سے بہترین کردار ادا کر رہا ہے جس میں طلبا ء کو کرہ ارض پہ ہونے والی تمام علاقائی فیچر، قدرتی فیچر، انسانی کلچر،ماحولیاتی مسائل اور زمین سے متعلق بنیادی علم دیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں 1955 میں شعبہ جغرافیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سے پہلے جغرافیہ انگریزوں کے دور میں لازمی مضمون تھا جسے پڑھنا ہر طالب علم کے لئے ضروری ہوتا تھا۔ شعبہ جغرافیہ کی مقصدِ تعمیر کی بات کی جائے تو اس شعبہ کی اہمیت اتنی ہیہے جتنی ہماری زمین سے محبت جو کہ ہمیں اناج، پانی، اور دیگر ضروریاتِ زندگی فراہم کرتی ہے۔ شعبہ جغرافیہ زمین اور اس سے جڑے دیگر علوم کے متعلق معلومات کے لئے بنایا گیا۔ 1970 میں شعبہ جغرافیہ کو جا...

Low salaries at private schools Bibi Rabia

Low salaries at private schools Bibi Rabia- Article- Urdu BS بی بی رابیعہ        کلاس: بی۔ایس پارٹ تھری  رول نمبر:    ۲۴ آرٹیکل نجی اسکولوں میں اساتذہ کی قلیل تنخواہیں۔۔ استاد ایک ایسا پروفیشن ہے جسے قدرت نے عزت واحترام کے لازوال تحفے سے مالا مالا کیا ہے یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو تمام دوسرے شعبہ جات کو جنم دیتا ہے استاد کی وجہ سے ہی شاگرد اپنی ذندگی میں کامیابی حاصل کرتاہے ا پنے مقصد تک پہنچتا ہے استاد وہ شخص ہے جو کہ معاشرے میں ایک بہت بڑا کردار اد ا کررہاہے۔چونکہ اسکول میں ہی طالبعلم کا زیادہ وقت گزرتا ہے تو استاد کا ہی شاگرد کی تربیت میں بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتاہے استاد سے بڑا رہنماء کوئی اور نہیں ہے جو کہ خود علم بھی محنت سے حاصل کرتا ہے اور اسے آگے پہنچانے میں بھی سخت جتن کرتاہے اتنی اٹتھک محنت کرنے والے عظیم اساتذہ کو ہمارے نجی اسکولوں میں قلیل تنخواہیں دی جاتی ہیں اساتذہ خود بچارے اعلی تعلیم اپنی جدوجہد سے حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں اور ایسے میں ایک بارپھر سے انہیں اس آزمائش میں ڈالا جاتا ہے کہ ان کی تنخواہ صر ف بارہ سو سے شروع ہوتی ہے او...

Marvi Shoukat- Youth in Pakistan Parliament

Youth in Pakistan Parliament by Marvi Shoukat - Article- BS Urdu ماروی شوکت  رول نمبر 2K16/MC/47 کلاس BS Part III آرٹیکل  تاریخ کی نو جوان پارلیمنٹ  ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان 14اگست 1947کو وجود میں آیا جب سے آج تک پاکستان میں امریت مارشل لاء اور جمہوریت کا دور رہا اور ہر دور میں ملک کے نوجوانوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا چاہے پھر وہ بارڈر پر بیٹھ کر ملک کی حفاظت کرنی ہو یا آفیس میں بیٹھ کر ملک کی ترقی کے لئے اپنی خدمات انجام دینی ہوں ۔شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے کے ساتھ اس سال 2018کے الیکشن میں بھی بڑی تعداد میں نو جوانوں نے حصہ لیاتمام ہی پارٹیز نے اس مرتبہ نو جوانوں کو ٹکٹ دیے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے بڑ ی تعداد میں نوجوانوں کو ٹکٹ دیے اور اسکا پارٹی کو خوب ہی فائدہ پہنچا اور آج وہ اقتدار میں ہیں۔ 2018میں 1کڑوڑ نئے ووٹر رجسٹر ہوئے ۔ اور نو جوانوں نے نو جوانوں کو ووٹ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم نوجوان سیاست کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور پرانی اور خاندانی سیاست ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے اب سیاست میں بھی ملک کو نوجوانوں کی ضرورت ہے پاکستان...

Sewerage in Hyderabad Canal - Noorulain

Sewerage in Hyderabad Canal Revised Article Noorulain - BS نورالعین انصاری  بی ایس پارٹ 3 رول نمبر: 80 آرٹیکل: حیدرآباد میں نہروں کی گندگی نہر پانی کے اس مصنوعی راستے کو کہا جاتا ہے جو دریاؤں، بندوں یا چشموں سے انسانی آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح شہرحیدرآبادمیں بھی دریائے سندھ سے کئی نہریں نکالی گئیں جن کا مقصد شہریوں کو صاف اور پینے کے قابل پانی فراہم کرنا تھا، لیکن متعلقہ حکام کی نااہلی اورعدم توجہ کے باعث یہ نہریں گندگی کا گڑھ اور سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کا ایک راستہ بن کے رہ گئی ہیں۔ وقت نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پھلیلی،چینل موری،گھانگراموری و شہرکی دیگر نہروں میں کئی سالوں سے گندہ اوراستعمال شدہ پانی چھوڑا جا رہا ہے ۔جبکہ محکمہ آبپاشی سندھ کی جانب سے نہروں کی سالانہ صفائی اور مرمت کے لیے کروڑوں روپے تو حاصل کرتی ہے ۔مگر نہروں کا حال دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا کہ ان کی سالانہ صفائی ہوتی ہے۔ شہر کے واحد مذبح خانے کا فضلااور خون سمیت گندہ پانی پھلیلی نہر میں ڈالا جارہا ہے، جو کے صاف اور پنیے کے پانی میں اس طرح شامل ہو رہا ہے ...

Hyderabad need planning Nasim- Article- MA Urdu

Do not use English words. First give situation and then town planning. Writer's full name missing Referred back. file it again till Sep 23. Nasim- Article- MA U حیدرآبادکونئی تعمیراتی منصوبہ بندی کی ضرورت جب سے شہروجود میں آئے ہیں ان کی طرزِ تعمیر بدلتی رہی ہے مگر موجودہ دور میں مستقبل کی ضروریات کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہوگیا ہے ۔ ماضی میں جو شہر بسائے گئے وہ اس وقت کی ضرورت کے حساب سے تھے مگر وموجودہ دور میں وہ شہر و بال جان بنے ہوئے ہیں ۔ نا مناسب سفری سہولیات ، گندگی کے ڈھیر ، مہنگے گھر ، بنیادی ضرورت زندگی عد م فراہمی ، ٹریفک جام ، ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل روز مرہ زندگی کو مشکل سے مشکل بنار ہے ہیں ۔ آج کے دور میں شہروں کی تعمیر میں نہ صرف دور حاضر بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا ۔ حیدرآباد آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا آٹھواں بڑا اور صوبہ سندھ کو دوسرا بڑا شہر ہے ۔1997کی مردم شماری سے 2017کے مردم شماری تک آبادی میں 48فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ جس کی وجوہات شرح پیدائش اوردیہات سے لوگوں کا شہروں میں آکر بسنا ہے ۔ مناسب تعمیراتی منصوبہ بندی نا ہ...

Awais Raza- Pucca qila Hyderabad

Add 100 more words. This is not a feature. Article- MA- Urdu    Feature's main purpose is to entertain. Hence written in an interesting manner.  Feature is always reporting based i.e. Observation, primary data, talk with related people, can use secondary data, but first three things are most important. Foto??  Give info in an interesting manner.  Observe paragraphing.  Referred back, file again till Sep 23.  Pucca qila Hyderabad  پکے قلعے کی تاریخی حیثیت اور موجودہ صورتحال محمداویس رضا  M.A.Pre. 2K18/MMC/43 سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ ثقافت اور تہذیب کے لحاظ سے ایک اپنی اہمیت آپ ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی حیدرآباد میں موجود تاریخی عمار ت جسے پکا قلعہ کے نام سے پکارا جانا جاتاہے یہ قلعہ اپنے اندرایک بہت بڑی تاریخ سموئے ہوئے ہے اس قلعے کی تعمیر کا اآغاز 1867میں ہوا مگر اس سے پہلے حیدرآباد کی تاریخ پر کچھ سطور میں صرف نظر کی جائے گی حیدرآباد کا پہلے نام نیرون کوٹ تھا اور یہ اُس وقت کے بادشاہ غلام شاہ کلھوڑو جس کا ای...

Rabia Wahid- Technology Article

See which aspect was ur approved topic?  The way u have written technology is too general. Which technology? U should narrow dwon topic, localise it. Stick to the approved topic. Observe paragraphs . Rabia Wahid- Technology Article- BS3- urdu نام:ربیعہ واحد رول نمبر:۲کے۱۶۔ایم سی۔۱۴۰ کلا س:بی ایس۔پا ر ٹ ۳  ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب سائنسی دنیا کا آغاز تو بہت پہلے ہی ہوگیا تھا لیکن آج ہم جس صدی میں رہ رہے ہیں اس کو گیجڈز کی دنیا یا پھر انقلابی ڈیجیٹل دور کہیں تو غلظ نہ ہوگا۔بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں جدت آتی جارہی ہے ویسے ہی ٹیکنالوجی میں بھی بدلتے وقت اور آنے والے وقت کے حساب سے حیرت انگیز انکشافات ہوتے جارے ہیں۔ٹیکنالوجی کی دنیا کی بات کی جائے تو یہ ایک وصیع دنیا ہے کہ جس نے انسان کو چاند پر جا بیٹھایا اوردیکھا جاے تو ٹیکنالوجی کی بدولت انسانی زندگی میں کافی حد تک آسانیاں پیدا ہو گئیں ہیں کہ اس کی زند گی کوپرسکون اور آرام د ہ بنادیاہے۔موبائل فون ٹیکنالوجی کی وہ عظیم ایجاد ہے جس نے آج انسانی زندگی کو اپنے اندر پوری طرح سے سمیٹ لیا ہے کہ آجکل ہر خواہش کی تکم...

School Fees and vacations

   Revised Article of Unaiza BS   عنیزہ ذاھد ۳ بی ایس 2k16/MC/112 آرٹیکل چھٹیوں میں سکول فیس کا معاملہ کسی بھی ملک کی پیشرفت اور ترقی کے لئیے تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے مگر افسوس ہمارے ملک کا تعلیمی نظام اس حد تک مفلوج ہو کر رہ گیا ہے کہ اب والدین اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانے کے لئیے در در کی خاک چھانتے ہیں کیونکہ ان کے ایک غلط سکول کا انتخاب ان کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا سکتا ہے ۔سرکاری سکول کی بات کی جائے تو اْنھیں اب عام آدمی بھی اپنی ترجیحات کی فہرست میں نہیں لاتا۔اول تو ان سکولوں کی خستہ حال عمارتیں اوردوسرا غیر حاضر اساتذہ، دونوں ہی قابلِ قبول نہیں۔مجبورً والدین اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے لئیے مہنگے اور نامور سکولوں میں داخلہ کروادیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا فائدہ پرائیویٹ سکولوں نے بڑی خوبی سے اْٹھایا۔معیاری تعلیم کی لالچ دے کر والدین کی جیب ٹٹولنے کا ہنر تو کوئی ان سے سیکھے جو تعلیم کے نام پر بزنس چلارہے ہیں جو سالانہ بھاری رقم بطور فیس وصول کرتے ہیں اور اوپر سے مختلف اشکال کی صورت میں جیسے ڈونیشن،سکیورٹی ڈپوزٹ ، ایکٹیوٹی فیس اور سکول ٹرپ ...

Sumbul- Encroachments in Jamshoro Town

Too short, 600 words are required  Article is to analsye, interpret, explain or argue anything. It should have relevancy, thought, figures and  facts, conclusion. It should carry reference of some report . Observe proper paragraphing  Referred back. file it again till Sep 2 3.  سمبل پنھور Rol NO.2k16/mc/150 Encroachments in Jamshoro Town  حد دخلیوں کا شکار جامشورو شہر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو جامشورو سٹی بڑی اہمیت کا حامل ہے اس شہر میں سندھ کی تین بڑی یونیورسٹیاں سندھ یونیورسٹی ، مہران یونیورسٹی موجود ہے اور اس کے علاوہ بہت بڑے اسکول بھی موجود ہے جن میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کا روزانہ کا آنا جانا بھی اس جامشورو شہر سے ہوتا ہے آبادی کے حوالے سے بھی جامشورو ایک بڑا شہر ہے جہاں ہزاروں لوگ رہتے ہیں اور اس شہر کی بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ شہر سندھو دریا کے کنارے پر واقع ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جامشورو شہر بہت بڑے مسائل کا شکار ہے اس میں شہر کے بہت بڑے مسائل موجود ہیں لیکن ہم یہاں ایک بڑے مسئلے کا ذکرینگے جامشورو شہر میں بڑھتی ہوئی حد دخ...

Usama- Cattle Markets on roads

Not reporting based. its like article and general.  Feature carries 5Ws+1H. It main purpose is to entertain. Hence written in interesting manner.  Feature is always reporting based i.e. Observation, primary data, talk with related people, can use secondary data, but first three things are most important Foro?  We will be publishing it after many days of Eid, make changes and update accordingly. Referred back, file again till Sep 23. محمد اسامہ بی ایسIII Usama-  Markets on roads Article- BS#3- Urdu سڑکوں پر منڈیاں، بیماریوں کا مرکز عید قربان کے دن آنے سے پہلے پاکستان بھر میں مختلف جگہوں پر ، سڑکوں پر غیر قانونی مویشی منڈیاں لگائی جاتی ہیں جہاں قربانی کے جانور وں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے غیر قانونی مویشی منڈیوں کے سبب پاکستان بھر میں ٹریفک کی روانگی بری طرح متاثر ہوجاتی ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور اُن کے ایندھن کے سبب ماحول آلودہ ہو جاتا ہے جہاں سانس لینا بھی کافی دشوار ہو جاتا ہے عام شہری بھی ...

Noorulain- Hyderabad sewerage and canals

Now data is availbale on net.    An Article is to analsye, interpret, explain or argue anything. It should have relevancy, thought, figures and facts, conclusion. It should carry reference of some report etc.  Write with arguments like preparing a case.  Referred back, Refile till Sept 23   Hyderabad sewerage and canals  نورالعین انصاری  بی ایس پارٹ 3 رول نمبر: 80 آرٹیکل: حیدرآباد میں نہروں کی گندگی نہر پانی کے اس مصنوعی راستے کو کہا جاتا ہے جو دریاؤں، بندوں یا چشموں سے انسانی آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح شہرحیدرآبادمیں بھی دریائے سندھ سے کئی نہریں نکالی گئیں جن کا مقصد شہریوں کو صاف اور پینے کے قابل پانی فراہم کرنا تھا، لیکن متعلقہ حکام کی نااہلی اورعدم توجہ کے باعث یہ نہریں گندگی کا گڑھ اور سیوریج کے گندے پانی کی نکاسی کا ایک راستہ بن کے رہ گئی ہیں۔ Nananymous source not acceptable. Name survey report, and when it was conducted?  ایک سروے کے مطابق پھلیلی،چینل موری،گھانگراموری و شہرکی دیگر...